ملک ریاض پاکستان کے پانچ بڑے امیر لوگوں میں شامل ہیں‘ یہ 25 سال پہلے ایک چھوٹے سے ٹھیکیدار تھے‘ پانچ مرلے کے کرائے کے مکان میں رہتے تھے اور بس میں سفر کرتے تھے لیکن پھر یہ ایشیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ پراجیکٹ کے مالک بن گئے‘ پورے ملک کی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو بدل کر رکھ دیا۔

میرا ذاتی خیال ہے بحریہ ٹائون کی نیٹ ورتھ ساڑھے تین ہزار ارب روپے ہے‘ یہ کتنی بڑی رقم ہے آپ اس کا اندازہ پاکستان کے ٹوٹل بجٹ سے لگا لیجیے‘ پاکستان کا بجٹ ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے ہے جب کہ ملک ریاض کے پراجیکٹس کی ویلیو ساڑھے تین ہزار ارب روپے ہے اور یہ ساری دولت ایک شخص نے 25 برس میں کمائی‘ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ بھی ملک ریاض کو ہوا‘ سپریم کورٹ نے انھیں 470 ارب روپے جرمانہ کیا‘ یہ ڈالرز میں چار بلین ڈالر بنتا ہے۔

ہم آئی ایم ایف سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لیتے ہیں گویا ملک ریاض آئی ایم ایف کے برابر جرمانہ ادا کریں گے‘ ملک ریاض نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی؟ اس کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے‘ میرا دعویٰ ہے آپ بھی اگر یہ نسخہ استعمال کر لیں گے تو آپ بھی ملک ریاض کی طرح کامیاب ہو جائیں گے‘ سو فیصد گارنٹی ہے‘ آج سے چھ ماہ پہلے تک ملک ریاض کے خلاف خوف ناک کیسز چل رہے تھے۔
سپریم کورٹ‘ چیف جسٹس‘ پوری گورنمنٹ اور تمام سیاسی جماعتیں ان کے خلاف تھیں لیکن ان برے ترین حالات میں بھی ملک صاحب اطمینان سے بیٹھے تھے‘ میں نے ان سے ایک دن اس اطمینان کی وجہ پوچھی‘ یہ ہنس کر بولے ’’یہ سب لوگ مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے‘‘ میں نے پوچھا ’’کیسے؟‘‘ یہ بولے ’’میرے تمام بزنسز میں اللہ تعالیٰ حصے دار ہے‘ پروردگار میرا بزنس پارٹنر‘ میرا شیئر ہولڈر ہے اور اللہ کبھی اپنا نقصان نہیں ہونے دے گا‘‘

میں نے مزید وضاحت چاہی‘ ملک ریاض نے بتایا ’’میں جب بھی کوئی پراجیکٹ‘ کوئی کاروبار شروع کرتا ہوں تو میں اللہ کو حصے دار بنا لیتا ہوں‘ اللہ کا یہ حصہ میرے کاروبار کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اسے ترقی بھی دیتا ہے لہٰذا یہ لوگ جتنی چاہے کوشش کر لیں یہ میرا کچھ نہ کچھ بگاڑ لیں گے مگر یہ اللہ اور اس کے کاروبار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے‘‘ ملک ریاض کی بات سو فیصد درست تھی‘ یہ شروع دن سے اللہ کو بزنس پارٹنر بناتے آ رہے ہیں‘ یہ ٹھیکیدار تھے تو یہ پہلے اپنے منافع کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے اور پھر اپنا حصہ گھر لے کر جاتے تھے‘ یہ آج بھی ہر سال 68 کروڑ روپے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

ملک میں 110 دستر خوان چل رہے ہیں‘ یہ ان دستر خوانوں میں ایک لاکھ لوگوں کو روزانہ کھانا دیتے ہیں‘ ملک میں ریاست کے دستر خوان بند ہو گئے لیکن ان کے دستر خوان 12 سال سے چل رہے ہیں‘ یہ درجنوں چیریٹی اسپتال چلا رہے ہیں‘ سیکڑوں میٹھے پانی کے کنویں ہیں‘ ہزاروں طالب علموں کی فیسیں ہیں‘ یہ روز دو خاندانوں کو مفت گھر دیتے ہیں اور ملک میں سب سے زیادہ کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ بھی اس شخص نے کرائے‘ اللہ کے ساتھ یہ شراکت داری ہے جس نے آج تک ان کا کاروبار بند ہونے دیا اور نہ ان کی گروتھ رکی‘ یہ آج بھی کہتے ہیں سپریم کورٹ نے مجھے 470 ارب روپے جرمانہ کیا‘ میں یہ بھی ادا کر دوں گا کیوں کہ اس میں بھی اللہ حصے دار ہے‘ اللہ یہ بھی پورا کر دے گا۔

آپ جنید جمشید (مرحوم) کے برینڈ ’’جے جے‘‘ سے بھی واقف ہیں‘ یہ پاکستان میں گارمنٹس کا سب سے بڑا برینڈ ہے‘ جنید جمشید نے شروع میں یہ بنایا‘ یہ دو بار ناکام ہو گئے‘ یہ اپنے پارٹنر سہیل بھائی کے ساتھ دعا کے لیے مفتی نعیم کے پاس گئے‘ مفتی صاحب نے انھیں مشورہ دیا آپ اپنے منافع میں اللہ کو حصے دار بنا لیں آپ کو کبھی خسارہ نہیں ہو گا‘ جنید جمشید اور ان کے پارٹنر سہیل بھائی نے اللہ کو 33 فیصد کا شیئر ہولڈر بنا دیا‘ اگلے ہی دن کام چل پڑا‘ یہ لوگ شروع میں صرف منافع کا 33 فیصد خیرات کرتے تھے‘ کام چل پڑا تو انھوں نے سیل کا 33 فیصد شیئر اللہ کے نام کر دیا‘ ان کا برینڈ نیشنل سے انٹرنیشنل ہو گیا۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی یہ اپنی جس پراڈکٹ میں اللہ کا حصہ نہیں رکھتے تھے وہ ناکام ہو جاتی تھی اور یہ جس میں اوپر والی ذات کو پارٹنر بنا لیتے تھے اس کو پہیے لگ جاتے تھے‘ آپ نے سیور فوڈ کا نام بھی سنا ہو گا‘ یہ پاکستان میں تیار فوڈ کا بہت بڑا برینڈ ہے‘ یہ روز دو ہزار دیگیں کھانا پکاتے ہیں‘ یہ ملک میں مرغی‘ چاول‘ گھی‘ چینی اور مصالحوں کے سب سے بڑے خریدار ہیں‘ سو سو ٹرکوں میںان کے چاول آتے ہیں لیکن پھر بھی مانگ پوری نہیں ہوتی‘ سیور کی کام یابی کے پیچھے بھی اللہ کی شیئر ہولڈنگ ہے‘ یہ روزانہ سویٹ ہوم کے یتیم بچوں کو مفت کھانا پہنچاتے ہیں۔

آپ یقین کیجیے یہ یتیم بچے ان کی جس پراڈکٹ کو ہاتھ لگا دیتے ہیں وہ کام یاب ہو جاتی ہے اور باقی پٹ جاتی ہیں‘ یہ یتیم بچوں کو 14 قسم کے کھانے کھلاتے ہیں اور ان کے یہ 14 کھانے کامیاب ہیں‘ کراچی میں ایک ٹرسٹ ہے سیلانی ٹرسٹ‘ یہ ٹرسٹ بھوکوں کو روز 70 لاکھ روپے کا کھانا کھلاتا ہے اور یہ ان کے دو درجن منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے‘ مولانا بشیر قادری اس ٹرسٹ کے روح رواں ہیں‘ مجھے مولانا نے بتایا‘ ہمارا ایک بھی ایسا ڈونر نہیں جس نے ڈونیشن دینا شروع کیا ہو اور پھر اس نے اپنے ڈونیشن میں اضافہ نہ کیا ہو‘ کیوں؟ کیوں کہ اللہ اس کے کاروبار اور ظرف دونوں میں اضافہ کر دیتا ہے اور ڈونر بھی اپنا حصہ بڑھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

میں لاہور کے ایک بزنس مین کو جانتا ہوں‘ یہ ڈیپارٹمنٹ اسٹورز اور گارمنٹس کے بے شمار برانڈز کے مالک ہیں‘ یہ جینز پینٹس کے سب سے بڑے ایکسپورٹر بھی ہیں‘ان کی کامیابی کے پیچھے بھی اللہ کی شیئر ہولڈنگ ہے‘ لاہور میں ایک چیریٹی اسپتال بننا تھا‘ میاں صاحب اور قرشی دوا خانے کے مالک اقبال قرشی دونوں نے اسپتال کے لیے ایک ایک ارب روپے دے دیے یوں ایک دن میں دو ارب روپے اکٹھے ہو گئے‘ اللہ کے نام کے یہ دو ارب روپے ان کی کامیابی کی واحد گارنٹی ہیں‘ کراچی میں انڈس اسپتال ہے‘ یہ دنیا کا واحد اسپتال ہے جس میں کوئی کیش کاؤنٹر نہیں‘ سردرد سے لے کر کینسر تک ہر شخص کا علاج مفت ہوتا ہے‘ اسپتال کا خرچ 12 ارب روپے سالانہ ہے‘ یہ 12 ارب روپے لوگ دیتے ہیں۔

اس کے سی ای او ڈاکٹر باری نے مجھے بتایا‘ ہمیں آج تک پیسوں کی کمی نہیں ہوئی کیوں کہ ہمارے سارے ڈونرز اللہ کے شیئر ہولڈر ہیں‘ اللہ انھیں کمی نہیں آنے دے رہا اور یہ ہمیں کمی نہیں آنے دے رہے‘ آپ عمران خان کی مثال بھی لے لیجیے‘ یہ جب تک صرف کرکٹر تھے تو یہ دو ہزار کھلاڑیوں میں ایک کھلاڑی تھے لیکن انھوں نے جب اللہ کے نام پر کینسر اسپتال بنایا تو اللہ نے انھیں وزیر اعظم بنا دیا‘ ان کا اسپتال بھی آج تک بند نہیں ہوا‘ وجہ اللہ کی شیئر ہولڈنگ ہے اور آپ اخوت کی مثال بھی لے لیجیے‘ یہ تیسری دنیا کی سب سے بڑی مائیکرو فنانسنگ این جی او ہے‘ یہ دس ہزار روپے سے شروع ہوئی تھی‘ یہ آج 100 ارب روپے کی آرگنائزیشن بن چکی ہے‘ یہ لوگ اب تک 35 لاکھ لوگوں کو قرض دے چکے ہیں‘ یہ تنظیم بلاسود قرضہ دیتی ہے۔

100-Success-rate.jpg


آج تک جس شخص نے بھی یہ قرضہ دیا اور جس نے بھی لیا اللہ کی شیئر ہولڈنگ کی وجہ سے اس کے رزق میں اضافہ ہو گیا‘ یہ لوکل مثالیں تھیں‘ آپ انٹرنیشنل مثالیں بھی ملاحظہ کیجیے‘ دنیا میں اس وقت 41 بڑے ڈونرز ہیں‘ بل گیٹس سب سے بڑا ڈونر ہے‘ اس نے 52 بلین ڈالر کی چیریٹی کی‘ یہ رقم پاکستان کے 80 فیصد قرضے کے برابر ہے‘ 41 ڈونرز کی فہرست میں آخری شخص ڈبلیو ایم کیچ ہے‘ اس نے بھی سوا بلین ڈالر چیریٹی کی‘ یہ 41 لوگ کھرب پتی ہیں‘ اتنی دولت چیریٹی کرنے کے بعدان لوگوں کو دیوالیہ ہو جانا چاہیے تھا لیکن آپ اللہ کا حساب دیکھیے جس دن ان لوگوں کا چیک چیریٹی فاؤنڈیشن میں گیا اس دن ان کی دولت کو پر لگ گئے‘ بل گیٹس 2007ء تک ایک سیکنڈ میں 30 ڈالر کماتا تھا‘ یہ آج 130 ڈالر فی سیکنڈ کما رہا ہے۔

یہ رقم ایک منٹ میں 7 ہزار 8 سو ڈالر (12 لاکھ9 ہزار روپے) بنتی ہے‘ آپ دیکھ لیں اللہ نے اس شخص کو کیسے نوازا‘ اس نے ایک ہاتھ سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور اللہ نے دوسرے ہاتھ میں پانچ گنا پکڑا دیا‘ یہ ہے اللہ کی شیئر ہولڈنگ‘ عیسائیوں کی کتابوں میں درج ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے چیریٹی مانگی‘ امیر یہودیوں نے ہزاروں روپے کا ڈھیر لگا دیا۔

قطار میں ایک چھوٹی سی فقیرنی بھی کھڑی تھی‘ اس کی جیب میں صرف ایک سکہ تھا‘ اس نے وہ سکہ ڈھیر پر پھینک دیا‘ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا یہ ایک سکہ بنی اسرائیل کی ساری دولت پر بھاری ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ میں نے ان لوگوں کو جو دیا تھا‘ ان لوگوں نے اس میں سے تھوڑا سا مجھے لوٹایا جب کہ اس فقیرنی کے پاس صرف ایک سکہ تھا‘ اس نے وہ پورے کا پورا مجھے دے دیا‘ اس پوری بستی میں یہ مجھے سب سے عزیز ہے‘ تم سے بھی زیادہ۔

میں آپ کو ہرگز ہرگز یہ نہیں کہتا آپ اس فقیرنی کی طرح اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دیں‘ آپ بس پارٹنر شپ سے آغاز کریں‘ آپ جو بھی کام شروع کریں آپ اللہ کو اس میں پانچ فیصد شیئر ہولڈر بنا لیں اور نیت کریں یا اللہ میرے رزق میں جتنا اضافہ ہوتا جائے گا میں آپ کے حصے کو اتنا ہی بڑھاتا جاؤں گا‘ آپ اس کے بعد کمال دیکھیے اگر آپ کا بزنس کام یاب نہ ہو‘ اگر آپ کے منافع میں اضافہ نہ ہو تو آپ اپنا نقصان مجھ سے لے لیجیے گا‘ میں آپ کا قرض دار ہوں گا‘ آپ ایک بار اللہ کو پارٹنر بنا کر دیکھیں‘ میرا اللہ آپ کی نسلوں تک کو حیران کر دے گا۔

نوٹ: آپ میرے یوٹیوب چینل مائینڈ چینجر پر اس موضوع پر ویڈیو بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔​