Forums
New posts
What's new
New posts
Latest activity
Tags
Members
Current visitors
Log in
Register
What's new
New posts
Menu
Log in
Register
Install the app
Install
Dear readers, our reading section is temporarily offline as we’re redeveloping it from scratch to provide you with an even better reading experience. Stay tuned!
Readers.pk Library
Requests Forum
Tabdeeli
JavaScript is disabled. For a better experience, please enable JavaScript in your browser before proceeding.
You are using an out of date browser. It may not display this or other websites correctly.
You should upgrade or use an
alternative browser
.
Reply to thread
Message
<blockquote data-quote="تبدیلی" data-source="post: 47963"><p><h3 style="text-align: right"><strong>تبدیلی</strong></h3> <p style="text-align: right">وہ بچوں کے لیے بڑی سخت محنت کر رہے تھے۔</p> <p style="text-align: right">ان کا خواب اپنے بچوں کو "بڑا آدمی" بنا کر باپ کی خدمت کرنے کا تھا، باپ کی معذوری کا علاج کرانا...</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">میں سیالکوٹ میں زیرِ تعلیم تھا۔ پانچ برس کا کورس تھا۔ روز یونی ورسٹی جاتے ہوئے رستے میں وہیل چیئر پر ایک معذور آدمی بیٹھا رومال بیچ رہا ہوتا تھا۔</p> <p style="text-align: right">میری اس سے سلام دعا تھی۔ مجھے بیچارے پر بہت ترس آتا کہ سورج سر پر ہو یا موسلا دھار بارش، یہ بیچارہ رومال بیچ رہا ہوتا ہے۔</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">بعد ازاں مجھے سائیں بابا کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے یہ محنت کر رہے ہیں۔</p> <p style="text-align: right">میں انھیں کہتا:</p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">تو مسکرا کر کہتے:</p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">یہ سن کر مجھے بھی تسلی ہوتی۔</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">سائیں بابا کی ٹانگوں سے معذوری قابلِ علاج تھی۔</p> <p style="text-align: right">میں نے ایک بار ان سے پوچھا:</p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">تو کہنے لگے:</p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">سائیں بابا کی آنکھوں میں ہمیشہ امیدوں کے جگنو چمکتے ہوئے نظر آتے۔</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">پانچ سال بعد میرا کورس مکمل ہوا، تو شادی کے بعد ملتان آ گیا۔</p> <p style="text-align: right">پھر اپنی اپنی مصروفیات ہو گئیں۔ گھر والوں میں اس قدر اُلجھا کہ سیالکوٹ کے چکر لگنا ختم ہو گئے۔</p> <p style="text-align: right">سائیں بابا کو بھی بھول گیا۔</p> <p style="text-align: right"></p><hr /> <p style="text-align: right"><strong>*****</strong></p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">اب پتا ہے اولاد نے کیا صلہ دیا؟</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">بلاول شادی کر کے گھر سے غائب ہو گیا۔</p> <p style="text-align: right">منجھلا، جواد، شادی کے دو ماہ بعد بمشکل باپ کے ساتھ رہا، پھر منہ موڑ لیا۔</p> <p style="text-align: right">اور سب سے بدتمیز، حمید، نے کہا:</p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">سائیں بابا جا نہ سکے، تو حمید باپ کے کمائے پیسے لے کر غائب ہو گیا۔</p> <p style="text-align: right">باقی بیٹے بھی باپ کو اپنے کمائے پیسوں سے ایک پیسہ نہیں دیتے:</p> <p style="text-align: right"></p><p></p><p style="text-align: right">سنگدلوں کو یہ خیال نہ رہا کہ معذور باپ نے رومال بیچ بیچ کر پڑھایا ہے۔</p> <p style="text-align: right">نہ یہ خیال رہا کہ ہمارا باپ معذور ہے۔</p> <p style="text-align: right">اپنا علاج ہمارے لیے پوری جوانی میں نہیں کرایا، تو اب ہم اس کا علاج کرا دیں تاکہ بقیہ زندگی سکون سے گزارے؟</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">یہ صلہ دیتی ہے اولاد والدین کی قربانیوں کا؟</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">بیچارہ 75 سالہ سائیں بابا آج پھر رومال بیچنے پر مجبور ہے۔</p> <p style="text-align: right"></p><hr /> <p style="text-align: right">بھائی کی زبانی سائیں بابا کی دکھ بھری داستان سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔</p> <p style="text-align: right">والدین اولاد کے لیے کس قدر قربانیاں دیتے ہیں... اور اولاد؟</p> <p style="text-align: right"></p><hr /><h3 style="text-align: right"><strong>آج... پچیس سال بعد</strong></h3> <p style="text-align: right">ایک بار پھر میں سائیں بابا سے ملاقات کے لیے سڑک عبور کر رہا تھا۔</p> <p style="text-align: right">پھر مجھے وہیل چیئر سگنل کے پاس کھڑی نظر آ گئی۔</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">ان پچیس سالوں میں کچھ نہ بدلا تھا:</p> <p style="text-align: right">وہی معذوری،</p> <p style="text-align: right">وہی گھٹنوں کی تکلیف،</p> <p style="text-align: right">وہی دھوپ، آندھی، سردی میں رومال بیچنا...</p> <p style="text-align: right"></p> <p style="text-align: right">ہاں، دو تبدیلیاں ضرور آئی تھیں:</p> <p style="text-align: right"></p> <ol> <li data-xf-list-type="ol"><p style="text-align: right">سائیں بابا کے سر کے سفید بال</p> </li> <li data-xf-list-type="ol"><p style="text-align: right">وہیل چیئر پر کندہ بورڈ (جس پر "سائیں بابا" لکھا تھا) کا زنگ آلود ہونا</p> </li> </ol> <p style="text-align: right">اور ہاں... ایک سب سے بڑی اور واضح تبدیلی:</p> <p style="text-align: right">پہلے سائیں بابا کی آنکھوں میں <strong>امیدوں اور آس کے جگنو</strong> چمکتے نظر آتے تھے،</p> <p style="text-align: right">مگر آج...</p> <p style="text-align: right">بلکل <strong>غم سے بھری آنکھیں تھیں</strong>...</p> <p style="text-align: right"><strong>بے بس و نمکین آنکھیں...!!</strong></p></blockquote><p></p>
[QUOTE="تبدیلی, post: 47963"] [HEADING=2][RIGHT][B]تبدیلی[/B][/RIGHT][/HEADING] [RIGHT]وہ بچوں کے لیے بڑی سخت محنت کر رہے تھے۔ ان کا خواب اپنے بچوں کو "بڑا آدمی" بنا کر باپ کی خدمت کرنے کا تھا، باپ کی معذوری کا علاج کرانا... میں سیالکوٹ میں زیرِ تعلیم تھا۔ پانچ برس کا کورس تھا۔ روز یونی ورسٹی جاتے ہوئے رستے میں وہیل چیئر پر ایک معذور آدمی بیٹھا رومال بیچ رہا ہوتا تھا۔ میری اس سے سلام دعا تھی۔ مجھے بیچارے پر بہت ترس آتا کہ سورج سر پر ہو یا موسلا دھار بارش، یہ بیچارہ رومال بیچ رہا ہوتا ہے۔ بعد ازاں مجھے سائیں بابا کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے یہ محنت کر رہے ہیں۔ میں انھیں کہتا: [/RIGHT] [RIGHT]تو مسکرا کر کہتے: [/RIGHT] [RIGHT]یہ سن کر مجھے بھی تسلی ہوتی۔ سائیں بابا کی ٹانگوں سے معذوری قابلِ علاج تھی۔ میں نے ایک بار ان سے پوچھا: [/RIGHT] [RIGHT]تو کہنے لگے: [/RIGHT] [RIGHT]سائیں بابا کی آنکھوں میں ہمیشہ امیدوں کے جگنو چمکتے ہوئے نظر آتے۔ پانچ سال بعد میرا کورس مکمل ہوا، تو شادی کے بعد ملتان آ گیا۔ پھر اپنی اپنی مصروفیات ہو گئیں۔ گھر والوں میں اس قدر اُلجھا کہ سیالکوٹ کے چکر لگنا ختم ہو گئے۔ سائیں بابا کو بھی بھول گیا۔ [/RIGHT] [HR][/HR] [RIGHT][B]*****[/B] [/RIGHT] [RIGHT]اب پتا ہے اولاد نے کیا صلہ دیا؟ بلاول شادی کر کے گھر سے غائب ہو گیا۔ منجھلا، جواد، شادی کے دو ماہ بعد بمشکل باپ کے ساتھ رہا، پھر منہ موڑ لیا۔ اور سب سے بدتمیز، حمید، نے کہا: [/RIGHT] [RIGHT]سائیں بابا جا نہ سکے، تو حمید باپ کے کمائے پیسے لے کر غائب ہو گیا۔ باقی بیٹے بھی باپ کو اپنے کمائے پیسوں سے ایک پیسہ نہیں دیتے: [/RIGHT] [RIGHT]سنگدلوں کو یہ خیال نہ رہا کہ معذور باپ نے رومال بیچ بیچ کر پڑھایا ہے۔ نہ یہ خیال رہا کہ ہمارا باپ معذور ہے۔ اپنا علاج ہمارے لیے پوری جوانی میں نہیں کرایا، تو اب ہم اس کا علاج کرا دیں تاکہ بقیہ زندگی سکون سے گزارے؟ یہ صلہ دیتی ہے اولاد والدین کی قربانیوں کا؟ بیچارہ 75 سالہ سائیں بابا آج پھر رومال بیچنے پر مجبور ہے۔ [/RIGHT] [HR][/HR] [RIGHT]بھائی کی زبانی سائیں بابا کی دکھ بھری داستان سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ والدین اولاد کے لیے کس قدر قربانیاں دیتے ہیں... اور اولاد؟ [/RIGHT] [HR][/HR] [HEADING=2][RIGHT][B]آج... پچیس سال بعد[/B][/RIGHT][/HEADING] [RIGHT]ایک بار پھر میں سائیں بابا سے ملاقات کے لیے سڑک عبور کر رہا تھا۔ پھر مجھے وہیل چیئر سگنل کے پاس کھڑی نظر آ گئی۔ ان پچیس سالوں میں کچھ نہ بدلا تھا: وہی معذوری، وہی گھٹنوں کی تکلیف، وہی دھوپ، آندھی، سردی میں رومال بیچنا... ہاں، دو تبدیلیاں ضرور آئی تھیں: [/RIGHT] [LIST=1] [*][RIGHT]سائیں بابا کے سر کے سفید بال[/RIGHT] [*][RIGHT]وہیل چیئر پر کندہ بورڈ (جس پر "سائیں بابا" لکھا تھا) کا زنگ آلود ہونا[/RIGHT] [/LIST] [RIGHT]اور ہاں... ایک سب سے بڑی اور واضح تبدیلی: پہلے سائیں بابا کی آنکھوں میں [B]امیدوں اور آس کے جگنو[/B] چمکتے نظر آتے تھے، مگر آج... بلکل [B]غم سے بھری آنکھیں تھیں[/B]... [B]بے بس و نمکین آنکھیں...!![/B][/RIGHT] [/QUOTE]
Name
Verification
Post reply
Readers.pk Library
Requests Forum
Tabdeeli
Top
Bottom