• Dear readers, our reading section is temporarily offline as we’re redeveloping it from scratch to provide you with an even better reading experience. Stay tuned!

Request Tabdeeli

ت

تبدیلی

Guest

تبدیلی

وہ بچوں کے لیے بڑی سخت محنت کر رہے تھے۔
ان کا خواب اپنے بچوں کو "بڑا آدمی" بنا کر باپ کی خدمت کرنے کا تھا، باپ کی معذوری کا علاج کرانا...

میں سیالکوٹ میں زیرِ تعلیم تھا۔ پانچ برس کا کورس تھا۔ روز یونی ورسٹی جاتے ہوئے رستے میں وہیل چیئر پر ایک معذور آدمی بیٹھا رومال بیچ رہا ہوتا تھا۔
میری اس سے سلام دعا تھی۔ مجھے بیچارے پر بہت ترس آتا کہ سورج سر پر ہو یا موسلا دھار بارش، یہ بیچارہ رومال بیچ رہا ہوتا ہے۔

بعد ازاں مجھے سائیں بابا کی زبانی معلوم ہوا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے یہ محنت کر رہے ہیں۔
میں انھیں کہتا:
"مجھے آپ پر بہت ترس آتا ہے۔"​
تو مسکرا کر کہتے:
"بابو! فکر مت کرو، بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ رومال بیچ بیچ کر ان کو اچھا پڑھاؤں گا، تو یہ میری خدمت کریں گے، علاج کرائیں گے، اور میں سکون سے گھر میں بیٹھوں گا۔"​
یہ سن کر مجھے بھی تسلی ہوتی۔

سائیں بابا کی ٹانگوں سے معذوری قابلِ علاج تھی۔
میں نے ایک بار ان سے پوچھا:
"آپ اپنا علاج کیوں نہیں کرا لیتے؟"​
تو کہنے لگے:
"پیسے تو میں بچوں کے لیے کما رہا ہوں۔ اپنے پر خرچ کیسے کردوں؟ بڑے ہو کر یہ میرا علاج کر دیں گے۔"​
سائیں بابا کی آنکھوں میں ہمیشہ امیدوں کے جگنو چمکتے ہوئے نظر آتے۔

پانچ سال بعد میرا کورس مکمل ہوا، تو شادی کے بعد ملتان آ گیا۔
پھر اپنی اپنی مصروفیات ہو گئیں۔ گھر والوں میں اس قدر اُلجھا کہ سیالکوٹ کے چکر لگنا ختم ہو گئے۔
سائیں بابا کو بھی بھول گیا۔

*****
"اس نے محنت کی۔
بچوں کے لیے اپنا علاج نہ کرایا۔
اس آس پر کہ یہ میرا علاج کرائیں گے۔
دھوپ، بارش، آندھی میں وہیل چیئر گھسیٹ گھسیٹ کر رومال بیچے۔"​
اب پتا ہے اولاد نے کیا صلہ دیا؟

بلاول شادی کر کے گھر سے غائب ہو گیا۔
منجھلا، جواد، شادی کے دو ماہ بعد بمشکل باپ کے ساتھ رہا، پھر منہ موڑ لیا۔
اور سب سے بدتمیز، حمید، نے کہا:
"گھر سے چلے جاؤ۔"​
سائیں بابا جا نہ سکے، تو حمید باپ کے کمائے پیسے لے کر غائب ہو گیا۔
باقی بیٹے بھی باپ کو اپنے کمائے پیسوں سے ایک پیسہ نہیں دیتے:
"یہ ہماری محنت کے کمائے پیسے ہیں، لہٰذا اپنا انتظام خود کرو۔
ہم نے محنت کر کے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، تو اعلیٰ نوکری ملی۔
اب تمہیں کیوں پیسے دیں؟"​
سنگدلوں کو یہ خیال نہ رہا کہ معذور باپ نے رومال بیچ بیچ کر پڑھایا ہے۔
نہ یہ خیال رہا کہ ہمارا باپ معذور ہے۔
اپنا علاج ہمارے لیے پوری جوانی میں نہیں کرایا، تو اب ہم اس کا علاج کرا دیں تاکہ بقیہ زندگی سکون سے گزارے؟

یہ صلہ دیتی ہے اولاد والدین کی قربانیوں کا؟

بیچارہ 75 سالہ سائیں بابا آج پھر رومال بیچنے پر مجبور ہے۔

بھائی کی زبانی سائیں بابا کی دکھ بھری داستان سن کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
والدین اولاد کے لیے کس قدر قربانیاں دیتے ہیں... اور اولاد؟

آج... پچیس سال بعد

ایک بار پھر میں سائیں بابا سے ملاقات کے لیے سڑک عبور کر رہا تھا۔
پھر مجھے وہیل چیئر سگنل کے پاس کھڑی نظر آ گئی۔

ان پچیس سالوں میں کچھ نہ بدلا تھا:
وہی معذوری،
وہی گھٹنوں کی تکلیف،
وہی دھوپ، آندھی، سردی میں رومال بیچنا...

ہاں، دو تبدیلیاں ضرور آئی تھیں:
  1. سائیں بابا کے سر کے سفید بال​
  2. وہیل چیئر پر کندہ بورڈ (جس پر "سائیں بابا" لکھا تھا) کا زنگ آلود ہونا​
اور ہاں... ایک سب سے بڑی اور واضح تبدیلی:
پہلے سائیں بابا کی آنکھوں میں امیدوں اور آس کے جگنو چمکتے نظر آتے تھے،
مگر آج...
بلکل غم سے بھری آنکھیں تھیں...
بے بس و نمکین آنکھیں...!!
 

Thread visitors

Top Bottom